Allah does not accept the beliefs of anyone who does not accept the wilayat of Ali (asws), and who does not disassociate from his enemies.
Allah does not accept the beliefs of anyone who does not accept the wilayat of Ali (asws), and who does not disassociate from his enemies.
Allah has made it obligatory upon you to follow my command and he has forbidden you from disobeying me. He has made it Wajib (compulsory) on you to follow my orders and to obey Ali (asws) ibn Abi Talib (as) after me. He is my brother, my representative, and inheritor of my knowledge.
I swear to Allah, who has sent me as a Warner and a Guide that the Arsh (Throne) of Allah did not settle, the universes did not start moving, and the heavens and the planets were not created until after Allah wrote on them: LA ILAHAILLALLAH. MUHAMMADDIN RASULLULLAH. ALIYUN WALIYULLAH.
Bihar Al-Anwar V27 8 H16
خطبہ
الغدیر
امیرالمومنین
ؑ کا یوم
الغدیر کا
خطبہ
یہ خطبہ
جناب امیر ؑ
کے معرکتہ
الآراء
خطبات میں سے
ایک ہے اس
خطبہ کی عظیم
الشان خصوصیت
یہ ہے کہ مولا
ؑ نے یہ خطبہ
غدیر والے دن
ارشاد فرمایا
۔انتہائی
افسوس کی بات
ہے کہ اس عظیم
الشان اور
نادر خطبے کو
تاریخ کے
صفحات میں سے
غائب کرنے کی
نا پاک جسارت
کی گئی اگر اس پر بن نہ پڑا
تو اس میں
ترمیم کرنے کی
کوشش کی گئی
لیکن ان لوگوں
کو یاد رکھنا
چاہیے کہ حق
کو دبایا نہیں
جا سکتا اور
نہ باطل حق پر
کبھی غالب
آسکتا ہے ۔ہم
نے اس خطبہ کو
ایک قدیم نسخہ
سےاس کے اصل متن
سے ترجمہ کیا
ہےاور یہ
معصومین ؑ کا
کرم ہے کہ ان
پاک ہستیوں ؑ
نے ہمیں اس
عظیم عبادت کے
لیے منتخب کیا
(الحمد اللہ
رب العالمین )اورہم
اپنی یہ کوشش اپنے
وقت کے امام
زمانہ ؑ بقیتہ
اللہ کی بارگاہ
اقدس میں پیش
کرتے ہیں اور ہم
اپنے امام ؑ
کےشکر گزار
ہیں کہ ہمیں مولا
ؑ کے اس شاہکا
ر خطبے کو
مومنین تک
پہنچانے کی
سعادت نصیب فرمائی اس
خطبہ کے بارے
میں حکم مولا
ؑ ہے کہ اس
پیغام کو ہر سننے
والا یا پڑھنے
والا آگے پہنچائے اور اس
سلسلے میں
کوئی عذر قبول
نہیں کیا جائے
گا ۔مولا ؑ ہم
سب کے ایمان
اور معرفت میں
اضافہ فرمائے
(آمین یا رب
العالمین )
ہمیں بیان
کیا ایک جماعت
نے ابو محمد
ہارون بن
موسیٰ
االتاسعکبری
کی طرف سے
انہوں نے
فرمایا کہ
ہمیں بیان کیا
ابو الحسن علی
بن احمد الخراسانی
الماجب نے
انہوں نے
فرمایا کہ
ہمیں بیان کیا
سعید بن ہارون
ابو عمر
المروزی نے
جبکہ وہ اسی۸۰
برس سے زائد
کے ہوچکے تھے
انہوں نے کہا
کہ مجھے بیان
کیا الفیاض بن
محمد بن عمر
الطوسی نے سن
۲۸۹ھ میں اور
وہ نوے (۹۰) برس
کی عمر کو
پہنچ چکے تھے
وہ بیان کرتے
ہیں کہ وہ
امام ابو
الحسن ؑ علی
بن موسیٰ
الرضا علیہ
السلام کی
خدمت میں یوم
غدیر کے موقع
پر حاضر ہوئے
اور آپ ؑ کے
پاس آپ ؑ کے
خاص مومنین کی
جماعت بھی
موجود تھی اور
امام ؑ آج کے
دن کی فضیلت
اور اس کے
مرتبہ کا ذکر
فرما رہے تھے ۔آپ ؑ
نے فرمایا کہ
مجھے بیان کیا
میرے والد
گرامی ؑ نے
انہوں نے
فرمایا کہ
مجھے بیان کیا
والد گرامی امام
الصادق ؑ نے
انہوں نے
فرمایا کہ
مجھے بیان کیا
میرے والد
امام الباقر
ؑنے انہوں نے
فرمایا کہ
مجھے بیان کیا
میرے والد
گرامی امام زین
العابدین ؑ نے
انہوں نے
فرمایا کہ
مجھے بیان کیا
میرے پدر امام
الحسین ؑ نے
اور انہوں نے
فرمایا کہ یوم
غدیر
امیرالمومنین
ؑ منبر پر
جلوہ افروز
ہوئے اور خطبہ
ارشاد فرمایا اس
خطبہ میں امیر
المومنین ؑ نے
اللہ کی حمد اور
اسکی ثنا ء
ایسے بیان
فرمائی کہ پھر
کوئی اللہ کی
ایسی حمد بیان
نہ کر سکا پھر
آپ ؑ نے رسول
اللہ ؐ اور
آپ ؐ کی نبوت
کے فضائل بیان
فرمائے اور
پھر اپنا تعارف
بیان فرمایا
خطبہ
الغدیر کا اصل
متن
سب
تعریفیں اللہ
کے لیے ہیں جس
نے اپنی حمد
کو بغیر اس کے
کہ اسے تعریف
کرنے والے اور
حمد کرنے والے
کی ضرورت ہو
اپنی لاھویتہ (معبودیت
) اور بے نیازی
اور ربانیت
اور فردانیت (توحید
) کے اعتراف کے
راستوں میں
ایک راستہ
بنادیا ہے اور
مزید رحمت کا
ذریعہ اور سبب
بنا دیا ہے
اور اپنی رہنمائی
اور فضل کے
طالب کے لیے
راہ عمل
بنادیا ہے(وہ
راستہ ،ہدایت ،رحمت
اور فضل جناب امیر ؑ
ہیں یعنی مولا
ؑ کی معرفت کے
بغیر نہ ہی
توحید پہچانی
جا سکتی ہے
اور نہ ہی
اللہ کی کوئی
اور صفت ) اور
لفظوں کے بطن
میں اس بات کا
حقیقی اعتراف
پوشیدہ ہے کہ
وہی ذات ہر
حمد پر لفظوں
کا احسان کرنے
والی ہے اگرچہ
وہ عظیم ہے
اور میں گواہی
دیتا ہوں کہ
کوئی معبود
نہیں مگر اللہ
جو واحد
ولاشریک ہے
ایسی شہادت جو
تہہ بہ تہہ لپٹے
ہوئے اخلاص سے
نکلی ہے اور
زبان نے اسے
پوشیدہ سچائی
کی تعبیر کرتے
ہوئے نطق
(بیان ) کیا ہے
بے شک وہی
پیدا کرنے
والا ہے
،بنانے والا
ہے ،صورت عطا
کرنے والا ہے
،اس کے خو
بصورت نام ہیں
اس کی مثال
کوئی شے نہیں
ہے کیونکہ شے بھی
اس کی مشیت سے
ہوتی ہے پس وہ
ایسا ہے کہ
کوئی اس کی بنائی
ہوئی شے اس کے
مشابہ نہیں
۔اور میں
شہادت دیتا
ہوں کہ محمد ؐ اس
کے بندے اور
رسول ہیں جسے
اس نے چن لیا
قدیم سے ہی تمام
امتوں پر اپنے
علم کی وجہ سے وہ
منفر دہے ہم
شکل ہونے اور
دوسرے کے مثل
ہونے سے اپنے
ہم جنس لوگوں
میں سے( بظاہر
وہ انسانی شکل
میں اس دنیا
میں آیا لیکن
وہ اپنی
نورانیت میں
مخلوق سے
بالکل مختلف
ہے ) اور
اسے منتخب کیا
امر کرنے اور
نہی کے لیے
اور اسے اس کی
ادائیگی میں
پورے عالم میں
اپنا قائم
مقام بنایا اس
لیے کہ وہ(اللہ
) ایسا
تھا کہ نہ
آنکھیں اس کا
ادراک کر سکتی
تھیں اور نہ
ہی اسے پوشید
ہ افکار اس کا
احاطہ کر سکتے
تھے اور نہ
رازوں میں
چھپے ہوئے
گمانات اس کی
مثال دے سکتے
تھے نہیں ہے
کوئی معبود مگر
وہی (اللہ ) جو با
دشاہ اور
ذبردست ہے اس
نے محمد ؐ کی
نبوت کو اپنی
لاھویتہ (معبودیت ) کے
اعتراف سے ملا
دیا(یعنی
توحید کی
گواہی کے بعد
رسالت کی
گواہی بھی
لازم قرار پائی
) اور
اسے اپنے کرم
سے ایسی
خصوصیات عطا کر
دیں کہ اس کی
مخلوق میں سے
کوئی ان تک
نہیں پہنچ سکا
پس وہ اپنے
خواص اور دلی
دوستوں کے
ساتھ اس کا
اہل ہے اس لیے
کہ وہ مخصوص
نہیں ہو سکتا جس
میں تغیر کا
شائبہ ہوا اور
وہ دوست نہیں
ہو سکتا جسے
گمانات لاحق
ہوں اور اس نے
آپ ؐ پر آپ ؐ
کے اعزاز کو
مزید بڑھاتے
ہوئے درود
پڑھنے کا حکم
دیا ہے اور
دعا کرنے والے
کے لیے اپنی
قبولیت کا
راستہ بنایا
ہے پس اللہ نے
رحمت بھیجی اس
پر اور اسے
مکرم بنایا اور
صاحب شرف و
تعظیم بنایا
زائد احسان
کرتے ہوئے کہ
جو ختم نہیں
ہوتا اور
ہمیشہ ہے اور
کبھی منقطع
نہیں ہوتا ۔
اور بے شک
اللہ نے ہمیں
اپنے لیے چن
لیا اور اور
اپنی بلندی سے
ہمیں بلند
مرتبہ دیا اور
اپنے مرتبے
میں سےہمیں
مرتبہ دیا اور
ہم کو اپنی
طرف حق کی
دعوت دینے
والا بنایا
اور ہمیں اپنی
ہدایت کا راہنما
بنایا ہر ہر
دور اور ہر ہر
زمانے کے لیے اور
ہم عالم قدیم
ہی سے ہر پیدا
کئے جانے والے
اور خلق ہونے
والے سے پہلے
موجود تھے اور
اللہ کی حمد و
ثناء میں
مصروف تھا اور
اللہ نے ہمیں اپنی
ذات کے تعارف
کے لیے چن لیا اور ہمیں
ہر اس شے پر جو
اس کی عبدویت
کی سلطنت اور
ربو بیت کے
ملک کا اعتراف
کرنے والی ہے
حجت اور دلیل
بنایا اور
گونگوں کو
بولنے کی قوت
بخش دی قسم
قسم کی بولیاں
بولنے والوں
سے ہمارا اقرار
کرنے کے لیے
۔بے شک وہ
زمینوں اور
آسمانو ں کا
پیدا کرنے
والا ہے اور
اس نے ہمیں اپنی
مخلوق پر شاہد
بنایا اور اپنا
امر ہمارے سپرد کر
دیا ہمیں اپنی
مشیت کا
ترجمان بنایا
اور اپنے
ارادے کی زبان
بنایا اور ہم ان کی
شفاعت کرتے
ہیں جسے وہ
پسند کرے ہم اس کے
احکام کا حکم
دیتے ہیں اور
اس کی طریقہ پر
چلتے ہیں اور
اس کے قوانین
کو پاس رکھتے
ہیں اور اس کے
فرائض ادا
کرتے ہیں اور
اس نے اپنی مخلوق
کوجہالت کی
تاریکی میں
نہیں چھوڑا
اور نہ ہی کانوں
سے بہرا چھوڑا
اور نہ ہی اندھا
اور بے زبان
(گونگا ) چھوڑا
ہے بلکہ ان کو
عقل جیسی نعمت عطا کی
ہے جو ان کے
شواہد سے مل
جاتی ہے اور
ان کےاجسام میں پھیل جاتی
ہے اور ہمیں موکد
و ثابت کردیا
ان کے دلوں
میں اور ان کے
حواس کو ان کی
عقلوں کے لیے
غلام بنادیا اور
ہمارا اقرار
کروایا (یعنی مخلوق ہم کو
عقل کے ذریعے پہچانے
اور ہماری
معرفت حاصل
کرے ) ان کے کانوں
اور آنکھوں
پر اور فکروں
اور خیالوں پر
ہمارے بارےمیں اپنی
حجت کو لازم
کر دیا اورہمارے ذریعے
سے ان کو اپنی
دلیل دکھائی
اورہمیں اپنی
ذات کا مظہر
بنایا اور ہمیں اپنی
شہادت سے تیز
زبانوں کے
ساتھ وہ گفتگو
کروائی جس سے مخلوق
میں ہمارے
زریعے اس کی
قدرت اور حکمت
قائم ہوئی اور
عقلوں کے ساتھ
ہی ہمیں خوب
واضح اور ظاہر
کر دیا تاکہ
جوہمارے بارے
میں شک میں پڑ
کر ہلاک ہو جانتے
بو جھتے ہوئے ہلاک ہو
اور جوہماری
معرفت رکھتے
ہوئے زندگی
حاصل کرے وہ
بھی
جانتےبوجھتے
ہوئے زندہ رہے
اور بے شک
اللہ تعالیٰ
خوب سننے والا
اوردیکھنے والا
شاہد اور ہر
خبر رکھنے
والا ہے ۔
اے لوگو!
بے شک آج کا
دن تمہارے لیے
بہت عظیم دن
ہے آج اس نے
اپنے دین کو
کامل کر دیا
ہے تمہیں رسول
اللہ ؐ نے
اللہ کے حکم
کے بارے میں آگاہ
کر دیا ہے اور
اللہ نے میری
ولایت کو تم پر
واجب کر دیا
ہے تاکہ وہ تم
کو میری ولایت
کے راستے پر
لائے اور اپنی
ہدایت کے نور
سے تاکہ تم اس
نورہدایت کی
پیروی کرتے ہوئے
اس کے راستے
پر آجاؤ اوراللہ
چاہتا ہے کہ تم سب کو
شامل کرے اپنے
ارادے کے
راستے میں اور
تم پر اپنی
بہترین نعمت کو اور
زیادہ کر دے ۔پس
آج کے دن اس
نے تم کو اپنی
طرف بلایا اور
دعوت دی تا کہ
اس سے قبل
والی ہر شے
صاف ستھری ہوجائے
(تمہارا ایمان
کامل ہوجائے ) اور
ایک مثل سے
دوسری مثل کے
جو برے اعمال
میں ان کی
لغزشوں کو
دھونے کے لیے
ہو (تمہارے
سابقہ گناہ
معاف کر دے ) اور
یہ مومنین کے
لیے نصیحت ہے
اور متقی
لوگوں کے خوف
اور ڈر کی
دلیل ہے اور
اس نے اس دن
میں اعمال
کرنے پر جو
ثواب عطا کیا
ہے وہ اہل
اطاعت کے لیے
اس سے قبل
والے ایام سے
کئ گنا زیادہ
ہے اور اس نے
اسے ایسے
بنایا کہ وہ
اس وقت تک
مکمل نہیں
ہوتا مگر جب
اس کی اطاعت
کی جائے اور
اس کے امر کی
اور ہر اس چیز
سے رکا جائے
جو اس نے منع
فرمائی ہیں
اور اس کی
اطاعت کا
اقرار کیا
جائے جس کی
طرف آج اس نے
بلایا ہے پس
آج کے بعد اس
کی توحید، رسو
ل اللہ ؐ کی
نبوت قبول
نہیں کی جائے
گی جب تک کہ
میری ولایت کی
گواہی نہ دی
جائے اور نہ
ہی آج کے بعد
کسی کا دین
میری ولایت کے
بغیر مکمل
ہوگا اور نہ
ہی آج کے بعد
کسی کا دین
میری ولایت کے
بغیر قبول کیا
جائے گا اور
جان لو کہ آج
کےعظیم دن اس نے
اپنے نبی ؐ پر
سب کچھ نازل
کر دیا جس میں
اس نے اپنا
ارادہ واضح کر
دیا اور اپنے
مخلص اور اپنے
پسندیدہ
لوگوں میں ان
کو اسے آگے
پہنچانے کا
ذمہ دار بنایا
اور اس نے
منافقین اور
ٹیڑھے دل
والوں کو محفل
میں لانے کو
چھوڑ دیا اور
اسے ان سے بچانے
کی ذمہ داری
لے لی ہے اور
اس نے شک کرنے
والوں کے چھپے
ہوئے شکوک
ظاہر کر دئیے
اور مرتدین کے
پوشیدہ عزائم
اشاروں سے کھولے
پس اسے ہر
مومن و منافق
نے سمجھ لیا
پس عزت والا
معزز ہوا اور
مضبوط ایمان
والا حق پر
ثابت ہوا اور
منافق کی
جہالت اور
زیادہ ہوگئی
اور دین سے
نکلنے والے کی
موت میں اضافہ
ہوگیا اور میں
دیکھ رہا ہوں
کچھ لوگ اپنے
دانتوں کو کاٹ
رہے ہیں ،کچھ
بہت مضطرب ہو
رہے ہیں اور
کچھ اشاروں
کنایوں میں
مصروف ہیں اور
بولنے والوں
کے دلوں کا
غبار ظاہر ہو
رہا ہے اور اپنی
بے دینی پر
برقرار رہنے
والے اور سرکش
ہوجائیں گے
اور اب ایک
جماعت نے زبان
سے مان لیا ہے
لیکن ان کے
دلوں میں بغض
ہے اور وہ ایمان
سے دور
ہو گئے ہیں
اور ایک جماعت
نے اپنی زبان
اور صدق دل سے
اللہ کے اس
امر (میری ولایت
) کو تسلیم
کرلیا ہےاور
وہی سچے
مومنین ہیں اور
اللہ نے اپنا
دین مکمل کر
دیا اور اپنے
نبی ؐ اور
مومنین اور ان
کی اتباع کرنے
والوں کی
آنکھوں کو
ٹھنڈا کر دیا
ہے اور تم
دیکھ رہے ہو
کہ اللہ کا سب
سے بہترین
کلمہ صبر کرنے
والوں پر پورا
ہوا اور اللہ
تعالیٰ نے
میری ولایت کا
انکار کرنے
والے کو تباہ
وہ ہلاک کر
دیا جس طرح اس
نے فرعون
،ہامان
،قارون اور
ظالمین کے
لشکروں کو کیا
تھا اور گھٹیا
درجہ کے لوگ
گمراہوں میں
باقی رہ گئے ہیں
اور لوگوں کے
بارے میں وہ
کسی نقصان کی
پرواہ نہیں
کرتا اللہ ان
کا قصد کرے گا
ان کے گھروں
میں اور اللہ
ان کے آثار و
نشانات مٹا
ڈالے گا اور
ان کی علامتیں
تباہ کر دے گا
اور انجام کا
عنقریب ان کو
حسرتیں اور
افسوس دے گا
اور انہیں
ایسے لوگوں سے
لاحق کرے گا
جو ان کے ہاتھ
پھیلا دیں گے
اور ان کی
گردنیں لمبی
کر دینگے حتیٰ
کہ وہ اللہ کے
دین کو بدل
ڈالیں گے اور
اس کے حکم کو
بھی بدل ڈالیں
گے اور پھر اللہ
کی مدد آئے
گی اس کے
دشمنوں کے
خلاف فوراً
اسی وقت اور
اللہ تعالیٰ
باریک بین خبر
رکھنے والا ہے۔
اے لوگو !
غور کرو اللہ
تم پر رحم
فرمائے اس چیز
کی طرف جس کی
طرف اللہ نے
تمہیں آج
بلایا ہے اور
اس کو تم پر تا
قیامت واجب کر
دیا ہے اس کے
مقرر کردہ
طریقہ پر قصد
کرو اور اس کے
مقرر کردہ راستے
پر چلو اور
دیگر راستوں
کی اتباع نہ
کرو ورنہ اس
کے راستے سے
تم الگ ہوجاؤ
گے بے شک یہ دن انتہائی
عظیم الشان ہے
اس دن میں
کشادگی اور سہولت
واقع ہوئی اور
درجات بلند
ہوئے اور دلائل
واضح ہوئے اور
یہ وضاحت کرنے
اور ظاہر ہونے
کا دن ہے اور
یہ دین کے
کمال کا دن ہے
یہ ایک مقررہ
عہد کا دن ہے
اور یہ شاہد
وہ مشہود کا
دن ہے ، یہ عبد
و معبود کا دن
ہے ،اور یہ
عہد و پیمان
کے بیان کا دن
ہے اور اس دن
سے نفاق اور
انکار کا بیان
اور وضاحت
ہوتی ہے اور
ایمان کی
حقیقتوں کا
واضح کرنے کا
دن ہے اوریہ شیطان
کی شکست کا دن
ہے اور یہ
قطعی دلیل کا
دن ہے اور یہی
فیصلے کا دن
ہے جس سے
تمہیں ڈرایا
جاتا ہے اور
یہ ہی ملاء
اعلیٰ کا دن
ہے جس سے تم
اعراض کر رہے
ہو اور یہ ہی
درست رہنمائی
کا دن ہے اور
بندوں کا عطا
کرنے کا دن ہے
اور یہ طلب
کرنے والوں پر
دلیل کا دن ہے
یہ وہ دن ہے کہ
جس میں سینوں
کے چھپے ہوئے
راز اور امور
کی پوشیدگیاں
ظاہر کی گئیں
اور یہ اہل
خصوص یعنی خاص
لوگوں کے لیے
نصوص یعنی
صریح حکم کا
دن ہے یہ شیث کا دن ہے
یہ ادریس کا
دن ہے یہ یوشع
کا دن ہے یہ
شمعون کا دن
ہے یہ امن اور
مامون کا دن
ہے اور یہ
چھپے ہوئے
محفوظ کے
اظہار کا دن
ہے اور یہ
رازوں میں مبتلاء
کرنے کا دن ہے
اور یہ اسراروں
کا دن ہے اور(
جناب امیر ؑ
مسلسل یہی
فرماتے رہے یہ
وہ دن ہے اور
یہ وہ دن ہے )پس
تم مراقب و نگران
جانو اللہ عزو
جل کو اور ڈرو
اس سے اس کی بات
سنو اور اس کی
اطاعت کرو اور
مکرو دھوکہ سے
بچو اور اس سے
دھوکے کا
برتاؤ نہ کرو
اور اپنے دلوں
اور ضمیروں کی
خوب تفتیش و
تحقیق کر لو
اور نہ دھوکہ
کھاؤ ۔
اور اللہ
کا قرب تلاش
کرو اس کی
توحید کے ذریعے
اور ان کی
اطاعت کے
زریعے جنکی
اطاعت کرنے کا
اس نے حکم دیا
ہے اور کافرہ
عورتوں کے
دھوکے میں مت
آؤ کہ ان کی
کوئی عزت و
عصمت نہیں
ہوتی آگاہ
رہو کہ گمراہ
تم میں کامیاب
نہیں ہو سکتا
اور تم ان
لوگوں کی
اتباع کر کے اللہ
کے راستے سے
بھٹک جاؤ گے
جو خود گمراہ
ہیں اور لوگوں
کو گمراہ کرتے
ہیں ۔
اور اللہ
عزوجل نے اپنی
کتاب میں ایک
جماعت کی مذمت
فرمائی ہے جب
ان میں سے ایک
کہے گا کہوَقَالُوا
رَبَّنَا
إِنَّا
أَطَعْنَا
سَادَتَنَا
وَكُبَرَاءَنَا
فَأَضَلُّونَا
السَّبِيلَا رَبَّنَا
آتِهِمْ
ضِعْفَيْنِ
مِنَ الْعَذَابِ
وَالْعَنْهُمْ
لَعْنًا
كَبِيرًا (سورہ
احزاب آیت
۶۷۔۶۸ )بے
شک ہم نے
اطاعت کی اپنے
سرداروں اور
بڑوں کی پس
انہوں نے ہمیں
صحیح راستے سے
بھٹکا دیا اے
ہمارے رب ان
کو عذاب میں سے
دگنا عذاب دے
اور ان پر بہت
بڑی لعنت کر ۔
اللہ
تعالیٰ نے
ارشاد فرمایا وَإِذْ
يَتَحَاجُّونَ
فِي النَّارِ
فَيَقُولُ
الضُّعَفَاءُ
لِلَّذِينَ
اسْتَكْبَرُوا
إِنَّا
كُنَّا
لَكُمْ
تَبَعًا
فَهَلْ أَنْتُمْ
مُغْنُونَ عَنَّا(سورہ
غافر آیت ۴۷)کمزور لوگ
ان سے کہیں گے جو کہ
اپنے آپ کو
بڑا جانتے تھے
اور متکبرین
میں سے تھے کہ
بے شک ہم تو
تمہارے تابع
تھے پس کیا تم
ہماری طرف سے
کچھ کام آؤگے
اللہ کے عذاب
میں سے تو وہ
کہیں گے اگر
اللہ تعالیٰ
نے ہمیں ہدایت
دی ہوتی تو ہم
تمہیں بھی
ہدایت دیتے
اور تمہاری
رہنمائی کرتے
۔
اس میں
استکبار (تکبر
) کا ذکر ہے کیا
تمہیں معلوم
ہے کہ استکبار
کیا ہے ؟یہ ان
کی اطاعت نہ
کرنے کو کہتے
ہیں جنکی اطاعت
کا امر دیا گیا
اور ان پر
اپنے آپ کو
افضل جاننا
جنکی اطاعت کی
طرف ان کو
دعوت دی گئی ۔
اور قرآن
اس میں بہت سے
لوگوں کی طرف
سے بات کرتا
ہے اگر کوئی
تدبر کرنے
والا سوچنے
والا اسکا
تدبر کرے اور
سوچے تو قرآن
نے خوب سرزنش
کی ہے اور نصیحت
کی ہے ۔
اے لوگو !
تم جان لو کہ
بے شک اللہ
تبارک تعالیٰ نے
فرمایا ہے کہ
اللہ ان لوگوں
کو پسند
فرماتا ہے جو
اس کے راستے
میں صف باندھ
کر لڑتے ہیں
اور ایسے گویا
کہ وہ سیسہ
پلائی ہوئی
دیوار ہیں ۔تو
کیا تم جانتے
ہو کہ اللہ کا
راستہ (صراط )
کون ہے ؟ کیا
تم جانتے ہو
کہ اللہ کی
سبیل کون ہے ؟
کیا تم جانتے
ہو کہ اللہ کا
طریق کون
ہے ؟ کیا تم
جانتے ہو کہ
اللہ کی ہدایت
کون ہے ؟ کیا
تم جانتے ہو
کہ اللہ کا
امر کون ہے ؟
کیا تم جانتے
ہو کہ اللہ کی
ولایت کس کی
ولایت ہے ؟
کیا تم جانتے
ہو اللہ کی
حجت کون ہے ؟
اے لوگو
سن لو میں ہوں
اللہ کا صراط
،میں ہوں اللہ
کا راستہ ،میں
ہوں اللہ کی
سبیل ،میں ہوں
جنت اور جہنم
کا تقسیم کرنے
والا،میں ہوں
اللہ کی ہدایت
،میں ہوں اللہ
کا امر ،میں
وہ ہوں کہ جس
نے میری اطاعت
سے روگردانی
کی اللہ اس کو
منہ کے بل آگ
میں گرائے گا
،میں ہوں اللہ
کی حجت ،میں
علی ؑ کی
ولایت اللہ کی
ولایت ہے جو
آج تم پر
واجب کر دی
گئی ہے اور
تاقیامت واجب
رہے گی میں
علی ؑ روز
محشر کا مالک
ہوں میں ہوں
نور الانوار
میں ہوں اللہ
کا ہاتھ ، اس
کی زبان ،اس
کے کان ، اس کا
پہلو اور اس
کی آنکھ ،اور
تمہیں اور
تمام مخلوق کو
مجھے ہی حساب
دینا ہوگا ۔
پس تم لوگ
غفلت کی نیند
سے بیدار
ہوجاؤ اور عمل
میں جلدی کرو
وقت مقررہ
آنے سے پہلے
اور ایک دوسرے
سے سبقت لے
جاؤ اپنے رب
کی مغفرت کی
طرف قبل اس کے
کہ وہ دیوار
کھینچ دی جائے
کہ جس کے اندر
تو اللہ کی
رحمت ہو اور
اس کے ظاہر میں
عذاب ہو پھر
تم آوازیں دو
گے چیخ وپکار
کرو گے لیکن
تمہاری کوئی
ندا نہ سنی
جائے گی اور تم
شور و غوغا
کرو گے لیکن
تمہارے شور کی
پرواہ نہ کی
جائے گی اور
قبل اس کے کہ
تم فریاد طلب
کرو اور
تمہاری فریاد
پر نہ پہنچا
جائے اور
تمہاری فریاد
رسی نہ کی
جائے اور تیزی
دیکھاؤ
عبادات و
اطاعات میں
اوقات کے فوت ہوجانے
اور نکل جانے
سے پہلے گویا
کہ تمہارے پاس
لذتوں کو
گرانے والی
چیز آچکی پس
کوئی نجات کی
جگہ ہی نہیں
ہے اور نہ ہی
کوئی مقام
چھٹکارے کا
اور عادت ڈالو
اللہ تعالیٰ
تم پر رحم کرے
اپنے اس محفل
و مجلس کے
مکمل اور ختم
ہونے کے بعد
وسعت کرنے اور
اپنے اہل
وعیال پر اور
حسن سلوک کرنے
کی اپنے
بھائیوں کے
ساتھ اور اللہ
عزوجل کا شکر
ادا کرنے کی
اس کی ان نعمتوں
پر جو اس نے
تمہیں عطا کی
ہیں اور آپس
میں اتفاق اور
اکھٹے رہو
اللہ تمہاری مشکلات
کو سمیٹ دے گا
اور ایک دوسرے
کے ساتھ نیکی
کرو اللہ
تعالیٰ
تمہاری الفت و
محبت جوڑ دے
گا اور اللہ
کی نعمتوں پر
خوش ہوجاؤ
جیسے کہ وہ
تمہیں خوش
کرتا ہے اس
میں ثواب کے ساتھ
دوگنا کر کے
اور آج کے دن
کو جس طرح اس
نے تمہارے لیے
ایک بہت بڑی
عید قرار دیا
ہے اور آج کے
دن نیکی و حسن
سلوک کے مال
کو پھل و پھول
لگاتا ہے اور
عمر میں اضافہ
کرتا ہے اور
آپس میں
مہربانی کرنا
اللہ تعالیٰ
کی رحمت اور
مہربانی کا
تقاضہ کرتا ہے
اور تیار کرو
اپنے بھائیوں
اور اہل عیال
کے لیے اپنے
عطیات اور فضل
سے کوشش کرکے
اپنی سخاوت
میں سے اور
ایسی چیزوں سے
جن تک تمہاری
استطاعت سے تمہاری
قدرت پہنچ سکے
اور خوشی کا
آپس میں اظہار
کرو اور سرور
ظاہر کرو اپنی
ملاقات میں ۔
اور سب
تعریفیں اللہ
کے لیے ہیں
تمہارے عطیہ کرنے
اور تمہیں
دینے پر اور
مزید بھلائی
کی عادت ڈالو
اور بار بار بھلائی
کرو اپنی طرف
میلان رکھنے
والوں پر اور
اپنے ساتھ
برابر کرو
کمزوروں کو
اپنے کھانے
میں اور ہر اس
شے میں جس تک
تمہاری
استطاعت و
قدرت ہے اوراس
دن ایک درہم
ایک لاکھ درہم
کے برابر ہوگا
اور اس پر بھی
مزید اللہ کی
طرف سے ہوگا
اور اس دن جس
نے اپنے مومن
بھائی کی مدد
کی تو اس کو بے
حساب ثواب عطا
کیا جائے گا
اور جو شخص
مومن مردوں
اور عورتوں کی
کفالت کی ذمہ
داری لے تو میں
اللہ کی طرف
سے اس کا ضامن
ہوں کہ اسے
امان ملے گی
کفر اور فقر
سے اور اگر وہ
اسی رات مر گیا
یا اس
دن فوت ہوگیا
تو اس کا اجر
اللہ کے ذمہ
ہے اور جس نے
اپنے بھائی کے
لیے قرض لیا
اور اس کی مدد
کی تو بھی
اللہ پر اس کے
لیے ضامن ہوں
کہ وہ اسے اس
کے قرض کی
ادائیگی کے
لیے باقی رکھے
گا اور اگر اس
کی روح قبض
کرے گا تو اس
کی طرف سے خود
قرض اداکرے گا
۔
آج کے دن
جب تم آپس
میں ملو تو
مصافحہ کرو
اور اس دن کی
نعمت پر خوشی
کا اظہار کرو
یاد رکھو یہ
اللہ کی سب سے
خاص نعمت ہے
جو آج کے دن
تم پر نازل ہوئی
پس جو یہاں
حاضر ہے وہ
غائب کو یہ
بات پہنچا دے
اور موجود کو
اس اجتماع سے
الگ ہوجانے
والے کو بھی
یہ بات پہنچا دینے چاہیے
اس کے بعد کسی
کے لیے کوئی
عذر باقی نہیں
رہے گا ۔
خطبہ مکمل
ہونے کے بعد
جناب امیر ؑ
منبر سے نیچے
تشریف لے آئے
۔
(حوالہ:
قدیم خطب النادرہ
امیرالمومنین
ؑ ،احسن
البلاغہ قدیم)
Share on:
<<back to khutbas